تعارف
شادی کے بعد زندگی میں چھوٹے چھوٹے لمحے خوشیاں لاتے ہیں۔ کبھی شوہر کی محبت، کبھی اس کا خیال رکھنا، اور کبھی چھوٹے چھوٹے تحفے۔ لیکن کیا ہو اگر یہ محبت کے اظہار کے پیچھے کوئی چھپا ہوا راز ہو؟ آج کی یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے جس نے اپنے شوہر کی محبت کو سچ سمجھا، لیکن حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔
کہانی کا آغاز
میں عائشہ ہوں، شادی کو دو سال ہو گئے تھے۔ میرا شوہر احمد بظاہر بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ ہمیشہ میرا خیال رکھتا اور مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔ گھر کے تمام کام کاج میں میری مدد کرتا اور کبھی کبھار میرے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے بھی لاتا۔
جمعرات کی خاص روایت
میرے شوہر کی ایک خاص عادت تھی۔ ہر جمعرات کو وہ دفتر سے گھر آتے وقت میرے لیے بالوشا کی مٹھائی لے کر آتا۔ یہ سلسلہ کئی مہینوں سے چل رہا تھا۔ جب میں دن بھر گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی، کھانا پکاتی، صفائی کرتی، اور تھک جاتی، تو رات کو شوہر بڑے پیار سے وہ مٹھائی لا کر میرے سامنے رکھتا۔
“یہ مٹھائی بہت مہنگی ہے عائشہ، صرف تمہارے لیے لاتا ہوں۔ تم اتنی محنت کرتی ہو، یہ تمہارا حق ہے۔”
پیار کا اظہار
میں اپنے شوہر کی اس محبت کو دیکھ کر بہت خوش ہوتی۔ اس کے اس رویے سے میں کبھی کبھار شرمندہ بھی ہو جاتی کہ وہ میرے لیے اتنا کچھ کرتا ہے۔ میں سوچتی کہ میں کتنی خوش قسمت ہوں کہ مجھے اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ہے۔
عجیب کیفیت
لیکن ایک بات تھی جو مجھے ہمیشہ پریشان کرتی تھی۔ جب بھی میں وہ بالوشا کی مٹھائی کھاتی، تو کچھ دیر بعد مجھے بہت گہری نیند آ جاتی۔ اتنی گہری کہ صبح اٹھنے میں بہت دشواری ہوتی۔ میں سوچتی کہ شاید دن بھر کی تھکان کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔
صبح کا عجیب احساس
جب میں صبح اٹھتی تو میرا حال کچھ عجیب سا ہوتا۔ لگتا جیسے میں بہت گہری نیند میں تھی اور اب بھی پوری طرح بیدار نہیں ہوئی۔ بدن میں کمزوری محسوس ہوتی اور کبھی کبھار سر میں درد بھی ہوتا۔ میں نے اسے تھکان کا نتیجہ سمجھا اور کوئی خاص توجہ نہیں دی۔
شکوک و شبہات
کئی ہفتوں بعد میں نے محسوس کیا کہ یہ کیفیت صرف جمعرات کی رات کے بعد ہی ہوتی ہے۔ باقی دنوں میں میں بالکل ٹھیک رہتی۔ میرے دل میں کچھ شکوک پیدا ہونے لگے لیکن میں نے اپنے شوہر پر بے اعتمادی کا الزام لگانا مناسب نہیں سمجھا۔
منصوبہ بندی
ایک دن میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس معاملے کی تصدیق کر لی جائے۔ میں نے ایک منصوبہ بنایا۔ اگلے جمعرات جب شوہر مٹھائی لے کر آئے تو میں کھانے کا ڈرامہ کروں گی لیکن اصل میں نہیں کھاؤں گی۔
فیصلہ کن رات
وہ جمعرات کی رات آئی۔ میرا شوہر ہمیشہ کی طرح بالوشا کی مٹھائی لے کر آیا۔ اس نے پیار سے مجھے کھانے کو کہا۔ میں نے بہت چتوپنی سے کام لیا اور کھانے کا ڈرامہ کیا۔ جب وہ نہیں دیکھ رہا تھا تو میں نے مٹھائی کو چھپا دیا۔
حقیقت کا انکشاف
رات کو جب میں نے سونے کا بہانہ کیا اور بستر پر لیٹ گئی تو میرے شوہر نے سوچا کہ میں گہری نیند میں ہوں۔ کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے کمرے میں کوئی اور آدمی لے کر آیا ہے۔ میں نے آنکھیں بند رکھیں اور سانس روک کر سننے کی کوشش کی۔
حیرت انگیز انکشاف
میں نے جو سنا وہ میرے لیے صدمے سے کم نہیں تھا۔ میرا شوہر اس اجنبی آدمی سے بات کر رہا تھا اور اسے بتا رہا تھا کہ وہ ہر جمعرات کو مٹھائی میں نیند کی گولی ملا دیتا ہے تاکہ میں گہری نیند میں رہوں۔ وہ اس طرح گھر میں اپنے دوستوں کے ساتھ جوا کھیلتا تھا۔
مکمل سچائی
میں نے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا، “عائشہ کو پتا نہیں چلتا کہ میں یہاں کیا کرتا ہوں۔ نیند کی گولی کا اثر صبح تک رہتا ہے اور وہ کچھ نہیں جانتی۔”
فیصلہ
یہ سن کر میرے دل پر بجلی سی گری۔ میں نے محسوس کیا کہ جس آدمی پر میں اتنا بھروسہ کرتی تھی، وہ میرے ساتھ کتنا بڑا دھوکہ کر رہا تھا۔ میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ اب میں اس کا سامنا کروں گی۔
مواجہہ
اگلے دن جب میرا شوہر دفتر سے آیا تو میں نے اسے پوری بات بتائی۔ پہلے تو وہ انکار کرتا رہا لیکن جب میں نے تفصیل سے بتایا کہ میں نے کیا سنا تھا تو اس کا منہ خاموش ہو گیا۔
معافی کی درخواست
میرے شوہر نے معافی مانگی اور کہا کہ وہ بہت پشیمان ہے۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ دوبارہ کبھی ایسا نہیں کرے گا۔ لیکن میرا اعتماد ٹوٹ چکا تھا۔
نتیجہ
یہ واقعہ میرے لیے ایک سبق تھا۔ میں نے سیکھا کہ محبت کے نام پر کسی کو بھی اندھا بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی چیز عجیب لگے تو اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔
سبق
اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ رشتوں میں اعتماد بہت اہم ہے لیکن اندھا بھروسہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی چیز مشکوک لگے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔
خلاصہ
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی میں ہوشیاری اور محبت دونوں کا توازن ضروری ہے۔ کسی بھی رشتے میں اعتماد کی بنیاد سچائی پر ہونی چاہیے، نہ کہ دھوکے پر۔